آج پھر
تنہائی کی اس شام میں
انتظار ہے اس شخص کا
جو اکثر کہا کرتا تھا
آپ کے عادی ہوگئے ہیں ہم
آپ سے بات نہ ہو تو
دل بیچیں رہتا ہے
نہ جانے کہاں کھو گیا وہ
جو میری زندگی کا حاصل تھا
تنہائی کی اس شام میں
انتظار ہے اس شخص کا
جو اکثر کہا کرتا تھا
آپ کے عادی ہوگئے ہیں ہم
آپ سے بات نہ ہو تو
دل بیچیں رہتا ہے
نہ جانے کہاں کھو گیا وہ
جو میری زندگی کا حاصل تھا
انتظار ہے اس شخص کا
وہ جو
میری زندگی تھا
وہ جو
میری زندگی تھا
...
احمر