Tuesday, August 20, 2013

مجھے نہ بھول پاؤ گے

مجھے نہ بھول پاؤ گے
کبھی گمنام خوابوں کے کٹھن سنگلاخ رستوں پہ
انا کا سوگ ماتھے کی لکیروں میں سجا کر
تم جہاں بھی لڑ کھڑاؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے

یہ سچ ھےکہ
کوئی جب تم سے پوچھے گا
ھماری اس رفاقت کے حسیں لمحوں کے بارے میں
تو تم پھر مضطرب ھوکر
گھنی سوچوں کے دشتوں سے 
مری یادیں چراؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے
کہ جب ساون کے موسم میں قیامت خیز جزبوں کی
کسی چوکھٹ پہ سر رکھ کر
محبت کے اصولوں پہ وہ لکھی داستاں میری
یقینن تم سناؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے
 
کبھی کوئل کی کو کو بھی
کہ جب کانوں میں رس گھولے
تو
خیالوں کے کسی بےنام بندھن کی
ھر اک خوھش کے قدموں میں
میری جرات کے اشکوں سے
بہت تم بھیگ جاؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے