مجھے نہ بھول پاؤ گے
کبھی گمنام خوابوں کے کٹھن سنگلاخ رستوں پہ
انا کا سوگ ماتھے کی لکیروں میں سجا کر
کبھی گمنام خوابوں کے کٹھن سنگلاخ رستوں پہ
انا کا سوگ ماتھے کی لکیروں میں سجا کر
تم جہاں بھی لڑ کھڑاؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے
یہ سچ ھےکہ
کوئی جب تم سے پوچھے گا
ھماری اس رفاقت کے حسیں لمحوں کے بارے میں
تو تم پھر مضطرب ھوکر
گھنی سوچوں کے دشتوں سے
کوئی جب تم سے پوچھے گا
ھماری اس رفاقت کے حسیں لمحوں کے بارے میں
تو تم پھر مضطرب ھوکر
گھنی سوچوں کے دشتوں سے
مری یادیں چراؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے
کہ جب ساون کے موسم میں قیامت خیز جزبوں کی
کسی چوکھٹ پہ سر رکھ کر
محبت کے اصولوں پہ وہ لکھی داستاں میری
یقینن تم سناؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے
کہ جب ساون کے موسم میں قیامت خیز جزبوں کی
کسی چوکھٹ پہ سر رکھ کر
محبت کے اصولوں پہ وہ لکھی داستاں میری
یقینن تم سناؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے
کبھی کوئل کی کو کو بھی
کہ جب کانوں میں رس گھولے
تو
خیالوں کے کسی بےنام بندھن کی
ھر اک خوھش کے قدموں میں
میری جرات کے اشکوں سے
بہت تم بھیگ جاؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے
تو
خیالوں کے کسی بےنام بندھن کی
ھر اک خوھش کے قدموں میں
میری جرات کے اشکوں سے
بہت تم بھیگ جاؤ گے
مجھے نہ بھول پاؤ گے