Wednesday, July 17, 2013

شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی


شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شکر ہے زندگی تباہ نہ کی

تجھ کو دیکھا تو سیر چشم ہُوے
تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی


تیرے دستِ ستم کا عجز نہیں

دل ہی کافر تھا جس نے آہ نہ کی

تھے شبِ ہجر، کام اور بہت
ہم نے فکرِ دلِ تباہ نہ کی
 کون قاتل بچا ہے شہر میں فیض
جس سے یاروں نے رسم وراہ نہ کی