Saturday, December 3, 2016

بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیاں وہ شخص

بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیاں وہ شخص
اداس کر کے ہمیں چل دیا کہاں وہ شخص

قریب تھا تو کہا ہم نے سنگدل بھی اسے
 ہوا جو دور تو لگتا ہے جان- جاں وہ شخص

اس ایک شخص میں تھیں دلربائیاں کیا کیا
ہزار لوگ ملیں گے مگر کہاں وہ شخص

وہ جس کے نقش- قدم سے چراغ جلتے تھے
جلے چراغ تو خود بھی بنا دھواں وہ شخص

چھپا لیا جسے پت جھڑ کے زرد پتوں نے
 ابھی تلک ہے بہاروں پہ حکمراں وہ شخص

قتیل!! کیسے بھلائیں گے اہل- درد اسے
دلوں میں چھوڑ گیا اپنی داستاں وہ شخص