آج تنہائی , کسی ہمدمِ دیریں کی طرح
کرنے آئی ہے مری ساقی گری شام ڈھلے
منتظر بیٹھے ہیں ہم دونوں کہ مہتاب اُبھرے
اور ترا عکس جھلکنے لگے ہر سائے تلے
کرنے آئی ہے مری ساقی گری شام ڈھلے
منتظر بیٹھے ہیں ہم دونوں کہ مہتاب اُبھرے
اور ترا عکس جھلکنے لگے ہر سائے تلے
فیض احمد فیض