Thursday, March 20, 2014

سکوں لُوٹ کر پھر ستانے لگے ہیں

سکوں لُوٹ کر پھر ستانے لگے ہیں
نہ جانے وہ کیوں یاد آنے لگے ہیں
ہیں مخمور آنکھوں پہ زلفوں کے سائے
سرِ مے کدہ ابر چھانے لگے ہیں
ذرا صبر، اے غنچۂ ناشگفتہ
کہ وہ خیر سے مسکرانے لگے ہیں
رہی عمر بھر جن کی تصویر دل میں
تصور میں آ کر ستانے لگے ہیں
قضا نے بھی پایا نہ ان کا ٹھکانہ
تِرے ہاتھ سے جو ٹھکانے لگے ہیں
نہ جانے وہ اک لمحۂ قُرب کیا ہے
تعاقب میں جس کے زمانے لگے ہیں
بہت بے سکوں ہے نصیرؔ آج کوئی
ترِے اشک بھی رنگ لانے لگے ہیں