Wednesday, March 12, 2014

بچھڑ گیا ہر ساتھی دے کر پل دو پل کا ساتھ

بچھڑ گیا ہر ساتھی   دے کر پل دو پل کا ساتھ
کس کو فرصت ہـے جو تھامـے دیوانوں کا ہاتھ