احمر جب وہ تیرا نہیں تو کسی کا بھی ہو
کیوں ہوتا ہے اس کے لیے رنجیدہ تو
خواہشوں کو اپنی دفنا دے یادوں کو بھلا دے
وہ تیرا نہیں اسے اپنے خیالوں سے مٹا دے
کیوں ہوتا ہے اس کے لیے رنجیدہ تو
خواہشوں کو اپنی دفنا دے یادوں کو بھلا دے
وہ تیرا نہیں اسے اپنے خیالوں سے مٹا دے