Saturday, March 8, 2014

احمر جب وہ تیرا نہیں تو کسی کا بھی ہو

احمر جب وہ تیرا نہیں تو کسی کا بھی ہو
کیوں ہوتا ہے اس کے لیے رنجیدہ تو

خواہشوں کو اپنی دفنا دے یادوں کو بھلا دے
وہ تیرا نہیں اسے اپنے خیالوں سے مٹا دے