Thursday, February 6, 2014

چلو عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے

چلو عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے
کیا کریں کہ ہمیں دوسروں کی عادت ہے

تو اپنی شیشہ گری کا نہ کر ہنر ضائع
میں آئینہ ہوں مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے

وصال میں بھی وہی فاصلے سراب کے ہیں
کہ اسکو نیند مجھ کو رتجگے کی عادت ہے

تیرا نصیب ہے اے دل صدا کی محرومی
نہ وہ سخی نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے

یہ خود اذیتی کب تک فراز تو بھی اسے
نہ کر یاد کہ جسے بھولنے کی عادت ہے