ہم سوختہ جانوں کی خاطر آرائش عارض و لب ہی سہی
ہم سوختہ جانوں کی خاطر آرائش عارض و لب ہی سہی
جو برسوں تم کر نہ سکے وہ قتل کے ساماں اب ہی سہی
اے بادہ ناب کے رکھوالے،دو گھونٹ ادھر بھی پہنچا دے
معیارِ کرم اس محفل کا پیمانہ نام و نسب ہی سہی
جو کچھ بھی کوئی کہتا ہے کہے، اظہارِ تمنا تو ہو گا
ہم اہل جنوں کی باتوں میں کچھ پہلو ئے سوئے ادب ہی سہی
موجود ہیں پنچھی گلشن میں پھر کیوں ہے سکوت مرگ یہاں
پر شور ترانوں کے بدلے اک نغمہ زیر لب ہی سہی
اپنے پہ بھروسہ ہے جن کو، نغماتِ سحر بھی سن لیں گے
کرنوں کی دمکتی آہٹ تک نقارۃ آخر شب ہی سہی
آلودہ زُباں ہو جائے گی، انصاف کی میٹھی بولی ہے
تم اپنی روش کو مت بدلو، ہم مورد قہر و غضب ہی سہی
دیکھا ہے قتیل آخر سب نے اس شوخ کو بھی مائل بہ کرم
اس کارِ نُمایاں کے پیچھے گستاخی دستِ طلب ہی سہی