Monday, February 17, 2014

کہاں سے چل کے اے ساقی کہاں تک بات پہنچی ہے


کہاں سے چل کے اے ساقی کہاں تک بات پہنچی ہے
تری آنکھوں سے عمرِ جاوداں تک بات پہنچی ہے

مبادا بات بڑھ کر باعثِ تکلیف ہو جائے
وہیں پر ختم کر دیجے جہاں تک بات پہنچی ہے

ابھی تو اس کی آنکھوں نے لیا ہے جائزہ دل کا
ابھی تو ابتدائے داستاں تک بات پہنچی ہے

عدم جھگڑا قیامت تک گیا ہے جرمِ ہستی کا
ذرا سی بات تھی لیکن کہاں تک بات پہنچی ہے