Wednesday, November 13, 2013

Is dil k chand aasason main

اس دل کے چند اثاثوں میں
اک موسم ھے برساتوں کا
اک صحرا ہجر کی راتوں کا،
اک جنگل وصل کے خوابوں کا

اس چودھویں رات کے سائے میں
جب آخری بار ملے تھے ھم
یہ دل پاگل کب بھولتا ھے
وہ باغ سفید گلابوں کا

مرے خیمہ دل کے پاس کہیں
اک جگنو ٹھہر گیا اور پھر
سیلاب تھا ساری بستی میں
اندازوں کا، آوازوں کا

ہم لوگ جنوں کے عالم میں
منزل کی طلب بھی بھول گے
اب دل کو بھلا سا لگتا ہے،
صحرا میں عکس سرابوں کا