Saturday, November 30, 2013

Ab samundar hey koi aur na darya mera

اب سمندر ھے کوئی، اور نہ دریا میرا
راستہ دیکھ رھا ھے کہیں صحرا میرا

منزلِ خواب ھے یا کوئی قیامت کی گھڑی
اُس کی آنکھوں نے پہن رکھا ھے چہرہ میرا

دِل کی باتیں سرِ بازار لئے پِھرتی ھیں
پڑھ لیا جب سے ھواؤں نے ھے قصہ میرا

اُس کی یادوں سے کہو ھاتھ پکڑ لیں آ کر
گُم ھُوا جاتا ھے تاریکی میں سایہ میرا

 
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

شاھین مُفتی
مجموعہ کلام "پانی پہ قدم"