Wednesday, August 26, 2015

جنوں میں شوق کی گہرائیوں سے ڈرتا رہا

جنوں میں شوق کی گہرائیوں سے ڈرتا رہا
میں اپنی ذات کی سچائیوں سے ڈرتا رہا

محبتوں سے شناسا ہوا میں جس دن سے پھر اسکے بعد شناسایوں سے ڈرتا رہا

وہ چاہتا تھا کہ تنہا ملوں تو بات کرے
میں کیا کروں کہ میں تنہائیوں سے ڈرتا رہا

میں اپنے باپ کا یوسف تھا اسلئے محسن
سکوں سے سو نہ سکا بھائیوں سے ڈرتا رہا

محسن نقوی