Thursday, August 20, 2015

یہ اداسیوں کے موسم

یہ اداسیوں کے موسم
یونہی بے وجہ تو نہیں ہیں
تیری چاہتوں نے تھکا دیا
تیری یاد نے ستا دیا ہے
جہاں بھی گئے تجھے تلاشا
ہم بھی تھے رونق محفل کبھی
تیری وحشتوں نے ہمیں اجنبی بنا دیا