Tuesday, May 27, 2014

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا
رات کو سینہ بہت کوٹا گیا
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا