Thursday, May 22, 2014

تُجھ کو کھو کر بھی تُجھے پاوں جہاں تک دیکھوں

تُجھ کو کھو کر بھی تُجھے پاوں جہاں تک دیکھوں
حُسنِ یزداں سے تُجھے حُسنِ بُتاں تک دیکھوں

تُو نے یوں دیکھا ہے جیسےکبھی دیکھا ہی نہ تھا
میں تو دِل میں تیرے قدموں کے نشاں تک دیکھوں