تم گُزرو اور وقت نہ ٹھہرے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
یاد آؤ اور درد نہ بَھڑکے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
صبر کِیا ھے، شُکر کِیا ھے، راضی ھو کر دیکھ لیا ھے
لیکن دل کو چین آ جائے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
تَرکِ محبّت کر لینے سے تَرکِ محبّت ھو بھی جائے
کوئی اُسے جا کر سمجھائے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
جب تم نے سب راز کی باتیں، گوشِ موجِ ھَوا سے کہہ دِیں
شاخ و شجر تک بات نہ پہنچے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
گُذرا لمحہ گُزر گیا ھے، اُس پر اَشک بہانا کیسا
مُٹھی میں پانی آ جائے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
پہلے جیسا نہیں ھے کُچھ بھی، اِس پہ تعجب کرنا کیسا
دھوُپ ڈھلے اور رنگ نہ بدلے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
یاد آؤ اور درد نہ بَھڑکے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
صبر کِیا ھے، شُکر کِیا ھے، راضی ھو کر دیکھ لیا ھے
لیکن دل کو چین آ جائے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
تَرکِ محبّت کر لینے سے تَرکِ محبّت ھو بھی جائے
کوئی اُسے جا کر سمجھائے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
جب تم نے سب راز کی باتیں، گوشِ موجِ ھَوا سے کہہ دِیں
شاخ و شجر تک بات نہ پہنچے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
گُذرا لمحہ گُزر گیا ھے، اُس پر اَشک بہانا کیسا
مُٹھی میں پانی آ جائے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے
پہلے جیسا نہیں ھے کُچھ بھی، اِس پہ تعجب کرنا کیسا
دھوُپ ڈھلے اور رنگ نہ بدلے، ایسا تھوڑا ھو سکتا ھے