Tuesday, April 23, 2013

ہم دیکھیں گے

ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
ہم دیکھیں گے
جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے
ہم دیکھیں گے

جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ* دھڑکے گی
اور اہلِ حُکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا اناالحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

فیض احمد فیض