Saturday, November 24, 2012

کیوں تلخ ہے حیات کوئی سوچتا نہیں


کیوں تلخ ہے حیات کوئی سوچتا نہیں

توڑے حصار ذات کوئی سوچتا نہیں

طبقوں میں جس نے بانٹ دیا اس نظام سے
کیسے ملے نجات کوئی سوچتا نہیں

محنت کشوں کے گھر ہی میں فاقے ہیں کس لیے
اتنی ذرا سی بات کوئی سوچتا نہیں

بدلوں گا سوچ لوگوں کی آخر میں کس طرح
تنہا ہو میرے ساتھ کوئی سوچتا نہیں

برسوں سے میرے شہر میں عارف شفیق کیوں
ٹھہری ہوئی ہے رات کوئی سوچتا نہیں