کیوں تلخ ہے حیات کوئی سوچتا نہیں
توڑے حصار ذات کوئی سوچتا نہیں
طبقوں میں جس نے بانٹ دیا اس نظام سے
کیسے ملے نجات کوئی سوچتا نہیں
محنت کشوں کے گھر ہی میں فاقے ہیں کس لیے
اتنی ذرا سی بات کوئی سوچتا نہیں
بدلوں گا سوچ لوگوں کی آخر میں کس طرح
تنہا ہو میرے ساتھ کوئی سوچتا نہیں
برسوں سے میرے شہر میں عارف شفیق کیوں
ٹھہری ہوئی ہے رات کوئی سوچتا نہیں